ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تلنگانہ ضلع کے  بھینسہ میں فرقہ وارانہ تشدد کیلئے ہندو واہنی ذمہ دار،پولیس پر جانبداری کا الزام مسترد۔ آئی جی پی ناگی ریڈی کی پریس کانفرنس 

تلنگانہ ضلع کے  بھینسہ میں فرقہ وارانہ تشدد کیلئے ہندو واہنی ذمہ دار،پولیس پر جانبداری کا الزام مسترد۔ آئی جی پی ناگی ریڈی کی پریس کانفرنس 

Wed, 17 Mar 2021 11:16:24    S.O. News Service

حیدر آباد ، 17؍مارچ (ایس او نیوز) انسپکٹر جنرل پولیس نارتھ نا کی ریڈی آئی پی ایس نے واضح کیا کہ بھینسہ  کے فرقہ وارانہ تشدد میں ہندو واہنی  کے سرگرم کارکن ملوث ہیں اور اس تنظیم کے کارکنوں  نے ہی  یہ پورا عمل شروع کیا اور ختم کیا ہے۔

 سنتوش ضلع کے ہندووا ہنی کے صدر کی ایماء پر آتشزدگی کے واقعات پیش آ ئے اور سنتوش کی گرفتاری کے بعد سنسان  مقامات پر ہونے والے واقعات رک گئے۔

 انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پولیس پر جانبدارانہ طریقہ سے کام کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ  پولیس نے تمام شواہد کی بنا پرتشدد میں ملوث ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی ہے اور اسی میں اکثریت ہندو واہنی کے ارکان کی ہے۔ 

ناگی ریڈی نے بتایا کہ 7 ؍مارچ کی رات 8 بجکر 20 منٹ پر ہندوواہنی  سے تعلق رکھنے والے  2 کارکن مہیش اور دتو پٹیل  موٹر  سائیکل پر جارہے تھے اور انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ پیدل جانے والے رضوان کو پیچھے سے ہاتھ سے مارا۔یہ واقعہ ذوالفقارگلی  کے  پاس پیش آیا۔

 بعد ازاں رضوان اور اس کے دو ساتھی    مہیش  کی تلاش میں بھٹی  گلی  پہنچے ۔ ہندو واہنی  سے تعلق رکھنے والے دتو،  گوکل  اور مہیش  نے رضوان اور ان کے دو ساتھیوں کی پٹائی کروی ۔ اس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ۔ 

آئی جی پولیس نے واضح کیا کہ پولیس کی جانب سے تمام شواہد کی دستیابی کے بعد ہی کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حالات میں ہیں۔ بھینسہ تشدد کے معاملے میں جملہ 26 مقدمات درج کرتے ہوئے 38 ؍افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اس کے علاوہ 4 ؍نابالغ بچوں کوبھی پکڑ کرحاضر عدالت کیا گیا اس طرح جملہ 42 ؍افراد پکڑے گئے۔ اسی طرح مزید 7 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے اور افراد کو پکڑ کر انھیں پابند  مچلکہ کیا گیا۔ اس تشددمیں جملہ 12 افراد زخمی  ہوئے جن میں ملازمین پولیس اور صحافی بھی شامل ہیں ۔ تشددمیں 4 مکانات، 13 دکانات، 4 آٹو۔ 6 فوروہیلرس اور پانچ  ٹو وہیلرس  نذرآتش کئے گئے۔

 انہوں نے کیا کہ بھینسہ  میں پولیس کا بھاری بندوبست ہے عوام کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے شہر یان بھینسہ  سے صبر و تحمل  سے کام لینے کی خواہش کی ہے۔ 

آئی جی  نے بتایا کہ تشدد  میں جو کوئی بھی ملوث ہیں ان سب کو سزا دلوانے کیلئے پولیس کی جانب سے اقدامات کئے جارہے ہیں پولیس پر جانبداری کے الزامات سرار غلط ہیں ۔ بھینسہ  میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہواس کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ پولیس نے کافی جدوجہد کے ذریعہ  حالات کو قابو میں کیا ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد اندر وان ایک منٹ قابو پایا گیا۔


Share: